Thursday, 25 October 2012

Haq B Janib 46


دین 

دین دیانت کا مرکز ہے . محمدی الله دیانت داری ہو ہی نہیں سکتا،
اسی طرح قرانی پیغمبر بھی جھوٹ ہے. 
ایک مومن کبھی بھی مسلم نہیں ہو سکتا،
 ٹھیک ویسے ہی جیسے ایک مسلم کبھی مومن نہیں ہو سکتا ،
 کیونکہ وہ اسلام کو تسلیم کے ہوئے ہے. 
لفظ مومن پر اسلام بالجبر قبضہ کئے ہوئے ہے. 


نوٹ- سافٹ ویر کی مجبوری کے بائیس تحریر میں ہججے کی غلطیاں ہو سکتی ہے. براہِ کرم تعاون کریں . 

چرواہے کا کلام 

مسلمانو! دیکھو کہ تمہارا قران کسی چرواہے کا کلام ہے.جسکو بات کرنے کی بھی تمیز نہیں. کم از کم قصّہ گوئی کا سلیقہ تو اسمیں ہوتا، اپنی بات کو واضح کر پاتا. مترججم کو اس انپڑھ کی کافی مدد کرنی پڑتی ہے، پھر بھی کلام اور قصّے کی کوئی بنیاد تو ہو. بیچارہ عالم خود بھی محمّد کے ساتھ ساتھ پامال ہوتا ہے٠
کیا الله کے نام پر ایسی جگ ہنسائی کروانا تمکو منظور ہے؟ وہ بھی اکیسویں صدی میں؟ کیا محمّد عمر کیرانوی کی طرح تمنے بھی بے غیرتی کا گھوٹ پی رکھی ہے؟ وہ اپنے روٹی روزی میں مبتلا ہے، تم اگر مذہب فروشی نہیں کر رہے ہو تو اپنی تنہائی میں میری بات پر غور کرو٠
یاد رکھو کہ قوم ہر جگہ نرغہ میں ہے٠ ٠  

********************

4

***

جیم. مومن 

Thursday, 18 October 2012

Haq B Janib 45


دین 

دین دیانت کا مرکز ہے . محمدی الله دیانت داری ہو ہی نہیں سکتا،
اسی طرح قرانی پیغمبر بھی جھوٹ ہے. 
ایک مومن کبھی بھی مسلم نہیں ہو سکتا،
 ٹھیک ویسے ہی جیسے ایک مسلم کبھی مومن نہیں ہو سکتا ،
 کیونکہ وہ اسلام کو تسلیم کے ہوئے ہے. 
لفظ مومن پر اسلام بالجبر قبضہ کئے ہوئے ہے. 


نوٹ- سافٹ ویر کی مجبوری کے بائیس تحریر میں ہججے کی غلطیاں ہو سکتی ہے. براہِ کرم تعاون کریں . 

 صحابی کرام 

،،محمّد کی زندگی میں انکے ساتھ رہنے والے انکے مصاحب کو صحابی کرام کہا جاتا ہے. اول اول یہ لاخیرے اورنکممے لوگ بیکاری اور بدحالی کی وجہ سے محمّد کےہم رقاب ہوا کرتے تھے اور دو وقت کی روٹی کا سہاراانہیں ہو گیا تھا جسکے بدلے یہ ایمان لاۓ . آج مسلمان انہیں بڑے احترم سے صحابی کرام کہتے ہیں جنکی تصور ہم دکھلا رہے ہیں.
 یہ جاہل ترین لوگ ہوا کرتے تھے جسکی گواہی خود قرآن اور حدیثیں ہیں. آم مسلمان مذہبی دوکانوں سے یا اسلامی مداریوں سے جو کچھ پاتا ہے اسی کو جانتا ہے. قرآن میں محمّد کی ایجاد بھاری آسمان والا الله اپنی عیاریاں، اپنی دغا بازیاں، اپنا دروغ اور اپنا شر، ساتھ ساتھ اپنی جہالت اور اپنی بے وقوفیاں کھول کھول کر سمجھاتا ہے٠ 
میرا ماننا ہے کہ مسلمانوں کو اس اندھیرے سے باہرنکلنے کے لئے ایک ہی راستہ ہے انکی نمازیں انکی مادری زبان میں ہوں جوکہ قرآن کا خالص ترجمہ ہو. انہیں نمازوںکےبعد با لجبر قران
سنایا جاۓ. جدید قدریں قرانی آیتوں کی ہوا نکل سکتی ہیں.
شاید اسکے بعد مسلمان انسان بن سکتا ہے ٠ ٠ ٠ 
************************************


جیم. مومن 

Thursday, 11 October 2012

Haq B Janib 44


دین 

دین دیانت کا مرکز ہے . محمدی الله دیانت داری ہو ہی نہیں سکتا،
اسی طرح قرانی پیغمبر بھی جھوٹ ہے. 
ایک مومن کبھی بھی مسلم نہیں ہو سکتا،
 ٹھیک ویسے ہی جیسے ایک مسلم کبھی مومن نہیں ہو سکتا ،
 کیونکہ وہ اسلام کو تسلیم کے ہوئے ہے. 
لفظ مومن پر اسلام بالجبر قبضہ کئے ہوئے ہے. 

****************************



نوٹ- سافٹ ویر کی مجبوری کے بائیس تحریر میں ہججے کی غلطیاں ہو سکتی ہے. براہِ کرم تعاون کریں . 

 قرانی آوٹ پٹانگ

میں اس بات کو بار بار دوہراتا ہوں کہ توریت دنیا کی قدیم ترین کتاب ہے. اگر اسمیں سے تعمیر و تکمیل دنیا کل تصوّر اور آدم کے انسان اول ہونے کا قصّہ نکال دیا جاۓ تو اسے تاریخ انسانی کہا جا سکتا ہے. توریت میں یہودی ہستیوں کی تعریف کے ساتھ ساتھ انکی خامیاں بھی تراش دی گئی ہیں . داؤد جوانی کے آییام میں ڈاکو تھا تو اسکے ڈکیتی کو صاف صاف لکھا گیا ہے.یہ کتاب تمام اپنے نبیوں کی خوبی کے ساتھ انکی خامیاں بھی بیان کرتی ہے. بابا آدم کے بعد تو توریت پر شک کرنا گناہ جیسا لگتا ہے, یہ بنی نو انسان کا سچا اتہاس ہے٠ 
توریت کے مطابق ابرام (ابراہیم) کا باپ تیراہ (آذر) نے اپنے بیٹے، بہو اور بھتیجے کو ہجرت کرنے کی پرزور صلاح دی تھی کہ ہجرت کرو تبھی پریوارکو غربت سے نجات ملیگی . وہ غریبل وطنی کی مصیبت جھیلتے ہوئے بادشاہ مصرکی حکومت میں چلے گے جہاں اپنی بیوی سارا کو اپنی بہن بتاکر بادشاہ کی پناہ پایا اور سارا اسکے کے حرام میں چلی گئی. 
پول کھلنے پر سارا اور ابراہیم محل سے نکالے گے. اسکے بعد چچا بھتیجے مویشیو کے پالن کا پیشہ کرتے ہوئے مالدار ہو گے . ایک دن آیا کہ دونوں میں ٹکراؤ ہوا ، بھیڑوں کے بٹوارے کی نوبت آ گئی.دونوں نے سمت مخالف تک اتنی دور نکل ہے کہ ایک دوسرے کی خبر اور خیریت بھی نہ مل سکے٠ 


XXXXXXXXX

جیم. مومن 

Thursday, 4 October 2012

Haq B Janib 43


دین 

دین دیانت کا مرکز ہے . محمدی الله دیانت داری ہو ہی نہیں سکتا،
اسی طرح قرانی پیغمبر بھی جھوٹ ہے. 
ایک مومن کبھی بھی مسلم نہیں ہو سکتا،
 ٹھیک ویسے ہی جیسے ایک مسلم کبھی مومن نہیں ہو سکتا ،
 کیونکہ وہ اسلام کو تسلیم کے ہوئے ہے. 
لفظ مومن پر اسلام بالجبر قبضہ کئے ہوئے ہے. 

***************


نوٹ- سافٹ ویر کی مجبوری کے بائیس تحریر میں ہججے کی غلطیاں ہو سکتی ہے. براہِ کرم تعاون کریں . 

معجزات


موسا اور ایسا کے بہت سے معجزے ہوئے تھے جنہیں دیکھ کر پرانے لوگ انکی پیغمبری کے قایل ہو جایا کرتے تھے. انکی ہستی کو معجزوں کے کمال سے تسلیم کر لیا کرتے تھے. موسا کا کرشمہ تھا کہ پانی پرلاٹھی مار کے اسے دو حصّوں میں تقسیم کر دیتے تھے یا پھر پانی کو رنگن کر دیتے . اپنی لاٹھی زمیں پر ڈالا کہ سامپ بن گیا. اسی طرح عیسا کے معجزات مشہور ہیں کہ بیمار کو چهو کر ٹھیک کر دیا کرتے تھے اور کوڑھیوں کو چنگا کر دیا کرتے تھے. سوکھے ہوئے درخت کوہرا کر دینا اور بانجھ عورت کو صاحب اولاد کر دیا کرتے تھے. 
لوگوں نے ان معجزات کے حوالے سے محمّد سے پوچھ کہ آپ کون سے معجزے کئے؟ دعویدار ہیں؟ 
جواب میں محمّد نے اپنے کرشمیں دکھانے کے بجاۓ قدرت کے کارنامے گنانے لگے کہ انکا الله میہ کو لرکھا کر زمیں پر پانی برساتا ہے، زمی کو پانی سے زرخیز کرتا ہے، مردہ زمیں کو زندہ کرکے اس سے کوڑے جیسی گھس اور جانوروں کا چارہ نکالتا ہے.کھارے اور میٹھے پانی کے دریاؤں کو آمنے سامنے کر کے خاندان بناتا ہے، بغیر آسمان کی چھٹ قایم کئے ہوئے ہے، 
الله کو ہر بات کے علم ہونے کا کرشمہ ، 
وگیرہ وغیرہ٠ 
کس قدر ڈیتھ اور بےشرم تھے وہ جھوٹ کے پیکر٠ 
محمّد کے بعد انکے پروپیگنڈہ بازوں نے محممدی معجزات کے امبار لگا دئے . 
پانی کی کمیابی عرب میں مسلۂ عظیم تھا . سفرمیں جہاں پانی کی کمی ہوتی لوگ بلبلا اٹھتے، بس محمّد کی انگلیوں کی لمس سے ٹھنڈے پانی کے چشمیں پھوٹ نکلتے.لوگ صرف پیاس ہی نہ بجھاتے بلکہ وضو کرتے اور نہاتے دھوتے بھی. 
محمد ہانڈی میں تھوک دیتے تو برکت اتنی ہوتی کہ سیکڑوں افراد بھر پیٹ کھاتے اور کھانا 
بچا رہتا.اس قسم کے قریب دو سو معجزات انکے مصاحبوں نے انکے نام کے گڑھے . 
جیتے جی لوگوں کے تانوں سے شرمسار ہوئے تو دو معجزے آخر کار گڑھ ہی ڈالے کہ جسکے 
آگے موسا اور عیسا کے معجزات پانی بھریں. 
پہلا تھا شک لقمر جس میں تھا کہ انہوں نے انگلیوں کے اشارے سے چاند کے دو ٹکرے کر دئے جو شمال اور جنوب کے چوروں پر جا لگے. 
دوسرا تھا معراج کا واقعہ جسے خود مسلمانوںنے قصّہ معراج کہا. ان میں جناب نے پل جھپکتے ہی ساتوں آسمانوں کی سیر کیا.افسوس کہ ان پہاڑ جیسے جھوٹ پر آج بھی مسلمان یقین رکھتے ہیں. 

**************


جیم. مومن