Thursday, 29 November 2012

Haq B Janib - 51


دین 

دین دیانت کا مرکز ہے . محمدی الله دیانت داری ہو ہی نہیں سکتا،
اسی طرح قرانی پیغمبر بھی جھوٹ ہے. 
ایک مومن کبھی بھی مسلم نہیں ہو سکتا،
 ٹھیک ویسے ہی جیسے ایک مسلم کبھی مومن نہیں ہو سکتا ،
 کیونکہ وہ اسلام کو تسلیم کے ہوئے ہے. 
لفظ مومن پر اسلام بالجبر قبضہ کئے ہوئے ہے. 

نوٹ- سافٹ ویر کی مجبوری کے بائیس تحریر میں ہججے کی غلطیاں ہو سکتی ہے. براہِ کرم تعاون کریں . 
********************


جھوٹ کا پاپ = قران کا جاپ 

بہت ہی افسوس کے ساتھ لکھنا پڑ رہا ہے کہ قران وہ کتاب ہے جس میں جھوٹ کی انتہا ہے. حیرت اس بات پر ہے کہ اسے اپنے سروں پر رکھ کر مسلمان سچ بولنے کی حلف برداری کرتے ہیں. عدالت تک میں اسکی حلف برداری ہوتی ہے جس پر عدالت مجرم کی دروغ گوی پر فیصلہ دیتا ہے. 
قران میں محمّد کبھی موسیٰ بن کر موسیٰ کی کہانیاں گڑھتے ہیں تو کبھی عیسا بن کر عیسا کی جھوٹی کہانیاں گڑھتے ہیں. وہ اپنے حالت کو کبھی صالح علیہ سلام کے سر باندھتے ہیں تو کبھی سمود علیہ سلام کے سر باندھ کر خود کو سمود کے سر پر بیٹھا کر انکے واقعے بیان کرتے ہیں. محمّد نے جن جن یہودی نبیوں کے نام سن رکھے ہیں انکی انکی نہایت بےڈھنگی کہانیاں گڑھتے ہیں. اس طرح سے قرانی آیتیں تییار ہوتی ہیں. الله کے ساتھ جھوٹ کی نجاست لیکر ہم کلام ہوتے ہیں، جسے ایک بچہ بھی آسانی کے ساتھ پکڑ سکتا ہے. 
جنّت کی لبھاونی پیش کش اور دزخ کی بھیانک تصویریں خود خالق کا مذاق اڑاتی ہیں. محمّد جگہ جگہ لد سے گرتے پڑتے ہیں، جنہیں یہ جہنّمی علما بڑے سلیقے سے اٹھاتے ہیں. خود اپنے جال میں پھنستے ہیں اور بعد ذات تفصیر نگار بریکٹ میں باندھ کر باہر نکالتے ہیں. الله کے کلام کو بمعنی کرنے میں انہیں دانتوں پسینے آتے ہیں پھر بھی یہ کامیاب نہیں ہوتے تو چیلنج کرتے ہیں الله کے کلام کو سمجھ پانا ہر ایک کی بس کی بات نہیں. انہوں نے مذہب کے کچھ مبہم اور گولمول روایتیں تییار کر رکھے ہیں جو جگہ جگہ کام آتے ہیں. انکی اس رفو گری کو مسلمان بھیڑیں سر ہلا کر مان لیتی ہیں. 
محمّد اتنا جھوٹ بولتے ہیں کہ کبھی کبھی تو خود اپنے الله کو بھی ذلیل و رسوا کر دیتے ہیں کہ اسکو شیطان بنا دیتے ، ایسی بٹن کہ کر کہ " الله جسے گراہ کرے اسے کوئی راہ راست پر نہیں لا سکتا" عالموں کو بھی کئی جگہ محمّد کی جاہلانہ آیتوں پر لاحول پڑھنا پڑتا ہے کہ الله کے کہنے کا مطلب یہ نہیں یہ - - - ہے. 
چالاک محمّد نے اپنی بکواس کو سمجھنے سمجھانے پر پابندی لگا دی ہے اور قران کو تلاوت کے لئے قایم کر دیا ہے. معنی و مطلب کے راگ مالے میں جاؤ ہی کیوں. 
گوکہ اسلام میں گانا بجانا منا ہے پھر بھی موسیقی نے قران کو اپنے قدموں میں جگہ دے رکھکھا ہے. قران کو قرات سازی میں مسلمانوں نے باندھ رکھکھا ہے، اسکی درجنوں لہنیں بنی ہوئی ہیں جنکا عالمی مقابلہ ہوتا ہے اور انعام تقسیم کے جاتے ہیں. 
قران کی مکروہ ترین باتیں پڑھ پڑھ کر مسلمان اپنے مردوں کو بخشتے ہیں. اسکی تلاوت زندوں کو مردہ ہونے کے بعد جنّت نشیں کریگی . 
میں حلفیہ کہ سکتا ہوں کہ قرانی آیتیں ہی بھولے بھلے نو جوانوں کو جہادی بناتی ہیں.اور علما قرانی حلف لیکر عدالت میں کہ سکتے ہیں کہ قران امن کا پیغام دیتا ہے.. 
===============================================








جیم. مومن 

Thursday, 22 November 2012

Haq B Janib 50


دین 

دین دیانت کا مرکز ہے . محمدی الله دیانت داری ہو ہی نہیں سکتا،
اسی طرح قرانی پیغمبر بھی جھوٹ ہے. 
ایک مومن کبھی بھی مسلم نہیں ہو سکتا،
 ٹھیک ویسے ہی جیسے ایک مسلم کبھی مومن نہیں ہو سکتا ،
 کیونکہ وہ اسلام کو تسلیم کے ہوئے ہے. 
لفظ مومن پر اسلام بالجبر قبضہ کئے ہوئے ہے. 

***********************


چرواہے کا کلام 



مسلمانو! دیکھو کہ تمہارا قران کسی چرواہے کا کلام ہے.جسکو بات کرنے کی بھی تمیز نہیں. کم از کم قصّہ گوئی کا سلیقہ تو اسمیں ہوتا، اپنی بات کو واضح کر پاتا. مترججم کو اس انپڑھ کی کافی مدد کرنی پڑتی ہے، پھر بھی کلام اور قصّے کی کوئی بنیاد تو ہو. بیچارہ عالم خود بھی محمّد کے ساتھ ساتھ پامال ہوتا ہے٠
کیا الله کے نام پر ایسی جگ ہنسائی کروانا تمکو منظور ہے؟ وہ بھی اکیسویں صدی میں؟ کیا محمّد عمر کیرانوی کی طرح تمنے بھی بے غیرتی کا گھوٹ پی رکھی ہے؟ وہ اپنے روٹی روزی میں مبتلا ہے، تم اگر مذہب فروشی نہیں کر رہے ہو تو اپنی تنہائی میں میری بات پر غور کرو٠
یاد رکھو کہ قوم ہر جگہ نرغہ میں ہے٠ ٠  

Haq B Janib 50







جیم. مومن 

Friday, 16 November 2012

Haq B Janib 49


دین 

دین دیانت کا مرکز ہے . محمدی الله دیانت داری ہو ہی نہیں سکتا،
اسی طرح قرانی پیغمبر بھی جھوٹ ہے. 
ایک مومن کبھی بھی مسلم نہیں ہو سکتا،
 ٹھیک ویسے ہی جیسے ایک مسلم کبھی مومن نہیں ہو سکتا ،
 کیونکہ وہ اسلام کو تسلیم کے ہوئے ہے. 
لفظ مومن پر اسلام بالجبر قبضہ کئے ہوئے ہے. 












جیم. مومن 

Thursday, 8 November 2012

Haq B JANIB 48


دین 

دین دیانت کا مرکز ہے . محمدی الله دیانت داری ہو ہی نہیں سکتا،
اسی طرح قرانی پیغمبر بھی جھوٹ ہے. 
ایک مومن کبھی بھی مسلم نہیں ہو سکتا،
 ٹھیک ویسے ہی جیسے ایک مسلم کبھی مومن نہیں ہو سکتا ،
 کیونکہ وہ اسلام کو تسلیم کے ہوئے ہے. 
لفظ مومن پر اسلام بالجبر قبضہ کئے ہوئے ہے. 
***
*****









 
مجھ کو معلوم ہے جنّت کی حقیقت لیکن ،
دل کے بہلانے کو غالب یہ کیل اچھا ہے.  
غالب
چوتیے مسلموں کو، افیونی گولیوں کی جگہ ،
اس طرح اُن کا ہمیشہ ہو زوال، اچھا ہے. 
مومن
   *********
جیم. مومن 

Friday, 2 November 2012

Haq B Janib 47


دین 

دین دیانت کا مرکز ہے . محمدی الله دیانت داری ہو ہی نہیں سکتا،
اسی طرح قرانی پیغمبر بھی جھوٹ ہے. 
ایک مومن کبھی بھی مسلم نہیں ہو سکتا،
 ٹھیک ویسے ہی جیسے ایک مسلم کبھی مومن نہیں ہو سکتا ،
 کیونکہ وہ اسلام کو تسلیم کے ہوئے ہے. 
لفظ مومن پر اسلام بالجبر قبضہ کئے ہوئے ہے. 
***

نوٹ- سافٹ ویر کی مجبوری کے بائیس تحریر میں ہججے کی غلطیاں ہو سکتی ہے. براہِ کرم تعاون کریں . 

بکروں کی  عید

آج بکرا عید ہے. وہموں اور روایتوں کو جینے والے آج ہدوستان میں بکروں کی قربانی کا تیوہارمناتے ہیں ، باقی دنیا میں  بکر بمعنی گایوں کی قربانی کا مسلم تیوہار ہوتا ہے. ہم لوگ بکر بمعنی بکری کا بچہ جانتے ہیں اس لئے کہ گاۓ ماتا کا مطلب ہم سمجھتے ہیں.اس تیوہارکو کو ہم باقی دنیا سے مسلم الگ مناتے ہیں .
بکر عید کی بنیاد ہم نہیں جانتے. کل کا بوسیدہ الله جسے مسلمان آج بھی پکڑے ہوئے ہیں، غیر فطری اور ناجایزکام کو پسند کرتا ہے. الله کو پیاری ہے قربانی. الله کے بندے اسکو راضی کرنے کے لئے ان لاکھوں معصوم جانوروں کا خون نا حق کر دیتے ہیں، بھلے ہی یہ حماقت کا کام کیوں نہ ہو.
قربانیکی حقیقت کہ بابا ابراہیم کی کوئی اولاد نہ تھی. انکی بیوی جوانی کی آخری مرحلہ پر تھی ،اسنے اپنے شہر کو راۓ دیا کہ وہ اپنی مصری لونڈی حاضرہ کو اپنے عقد ثانی میں لیلے تاکہ اسکی اولاد سے ہوئی نسل جاری رہے . وہ اسکی ضد پر راضی ہو گیا . حاضرہ حاملہ ہوئی تو اسکے کچھ نخرے اوررتبے پیدا ہوئے . مگر ہوا یوں کہ ابراہیم کی پہلی بیوی سارہ بھی حاملہ ہو گئی بس کہ اسکی مراد بر ائی. ہاجرہ نے  اسمٰعیل  کو جنما تو سارا نے اسحاق کو جنم دیا. اس واقعے سے سارہ اپنی سوت حاضرہ سے جلنے لگی. اسنے اس سے ایسی دشمنی باندھی کہ پہلے بھی  حاملہ حاضرہ کو گھر سے بہار نکال دیا تھا . یہ لاوارث در بدر ماری ماری پھری ، پھر سارہ سے معافی مانگ کر گھر میں داخل ہوئی. مگر  اسمٰعیل  کی پیدائش کے بعد سارہ اس سے پھر جلنے لگی اور خود جب اسحاق کی مان بنی تو اسکی رقابت عروج پر آ گئی . اسنے ابراہیم کو اس بات پر آمادہ کر لیا کہ وہ حاضرہ کے بیٹے اسمٰعیل کو الله کے نام پرقتل کر دے.   ابراہیم  کے دماغ میں اسکا ایک معقول حل نکلا اور وہ اسکے لئے راضی ہو گیا.
ابراہیم اپنے بیٹے  اسمٰعیل  کو لیکر دورایک پہاڑی پر گیا ، اسنے راستے میں ایک دمبا خرید لیا اوراسمٰعیل  کی قربانی کا ایک واقعہ بنایا کہ " اسمٰعیل  کی جگہ الله نے دمبا کو لاکر کھڑا کر دیا" جو آج قربانی کے رسم کی ایک سنّت بن گئی. اس ناٹک سے اپنی دونوں بیویوں کو ابراہیم نے سادھ لیا.
جب ابراہیم نے اپنے بیٹے کی قربانی دینے کا ناٹک کیا تو وہ اکیلا تھا اور اسکا غیر مستند الله . بیٹا معصوم تھا یعنی کوئی   اسمٰعیل  کی قربانی کا شاہد و گواہ نہیں تھا. توریت اور قران میں اس واقعے کا ذکر ہے مگر ان دونوں کا الوہی اورالله ابھی تک ثابت نہیں ہو سکے کہ انکا وجود ہے بھی یا محض یہ تصوّر میں قیام پذیر ہیں. دیگر قومیں ان وہموں سے پاک ہو رہی ہیں مگر مسلمان جاگ ہی نہیں رہا ہے، انکا کیا علاج ہے ؟ ہدستان میں بھی نر بلی اور پشو بلی کی روایت ہوا کرتی تھی جو اب وہ ماضی کے نشان بن چکے ہیں. مسلمان ابھی بھی ہزارو سال پرانہ ماضی جی رہا ہے. 

******************************
حق بجانب  










جیم - مومن