Thursday, 27 December 2012

Haq B Janib 55


دین 

دین دیانت کا مرکز ہے . محمدی الله دیانت داری ہو ہی نہیں سکتا،
اسی طرح قرانی پیغمبر بھی جھوٹ ہے. 
ایک مومن کبھی بھی مسلم نہیں ہو سکتا،
 ٹھیک ویسے ہی جیسے ایک مسلم کبھی مومن نہیں ہو سکتا ،
 کیونکہ وہ اسلام کو تسلیم کے ہوئے ہے. 
لفظ مومن پر اسلام بالجبر قبضہ کئے ہوئے ہے. 

*******************************************************


دیکھئے کہ قران میں کوئی بات حق بجانب ہے کیا؟
کیا کبھی اپنے جاننا چاہا ہے کہ قران خود کیا کہتا ہے یا صرف مولاناون کے  زبانی ہی جانتے ہیں کی الله نے کیا کہا ہے.
انکا پیشہ ہے آپ کو گمراہ کرنا، یہ اپنی روزی قائم کئے ہوئے ہیں. انسے نجات پائیے -




جیم. مومن 

Thursday, 20 December 2012

Haq B Janib 54


دین 

دین دیانت کا مرکز ہے . محمدی الله دیانت داری ہو ہی نہیں سکتا،
اسی طرح قرانی پیغمبر بھی جھوٹ ہے. 
ایک مومن کبھی بھی مسلم نہیں ہو سکتا،
 ٹھیک ویسے ہی جیسے ایک مسلم کبھی مومن نہیں ہو سکتا ،
 کیونکہ وہ اسلام کو تسلیم کے ہوئے ہے. 
لفظ مومن پر اسلام بالجبر قبضہ کئے ہوئے ہے. 

***********************************


مسلمانو ! ٠ 
جب کبھی میڈیا پرالله کی شان میں کوئی گستاخی ہوتی ہے تو تم ایسا بھڑک جاتے ہو جیسے تمہارے باپ کو گالی دے دی گئی ہو . الله تو رب لالمیں ہے، صرف تمہاری اجارہ داری نہیں ہے . وہ رب خود اس سے نپٹ لےگا ، تم کون ہوتے ہو ، الله کو دفع کرنے والے ؟ 
اسی طرح جب کبھی محمّد کے خلاف آواز اٹھتی ہے تو تم ایسا خفا ہو جاتے ہو کہ لوگوں مرنے مارنے پر آمادہ ہو جاتے ھو ، جیسے تمہاری ماں پر الزام تراشی کی گئی ہو. ماضی میںتمہاری یا ہماری ماں خدا نخواستہ بد کردار رہی ہوں تو کوئی زمانے کی زبان نہیں روک سکتا ، مگر اگر کسی نے تمہاری ماں پرغلط الزام تراشی کر دی ہو تو ضرور اسکو معقول جواب دو. 
محمّد اور انکا تشکیل کردہ محممدی الله دشمن انسانیت ہیں جن کو تم اپنی ناقص عقیدت کے چلتے "محسن انسانیت" ٹھہراۓ ہوے ہو. اسکے ذممیدار کج ادا علما ہیں جن کو پہچاننے میں تم غلطی کر رہے ہو. 
محمّد عالم انسانیت کے اتنے بڑے مجرم ہیں کہ انہیں رہتے دنیا تک انسان کبھی معاف نہیں کر سکتا . محمّد کی اصلیت خود اپنی آنکھوں سے دیکھو ، علما کی آنکھوں سے نہیں. جو شخص اپنی بہو کے ساتھ زنا کاری کرتے ہو خود اسکے بیٹے کے ہاتھوں سے پکڑا گیا ہو اور اسکی بیوی کو اپنی بیوی بنا کر عمر ر بھر رکھا ہو ، وہ بھی بنا نکاح کے، ایسے شخص کو انسان بھی نہیں کہا جا سکتا ، پیغمبر تو بہت دور کی بات ہے . 
محمّد کے نام ایک طویل فہرشت بد کرداریوں کی ہے جسے نہ دیکھ 
پانے کے لئے یہ مفروضہ عالمان دین آپ کی آنکھیں اپنے دونوں ہاتھوں سے بند کئے ہوے ہیں ٠ 

****************************
 











جیم. مومن 

Thursday, 13 December 2012

Haq B Janib 53


دین 

دین دیانت کا مرکز ہے . محمدی الله دیانت داری ہو ہی نہیں سکتا،
اسی طرح قرانی پیغمبر بھی جھوٹ ہے. 
ایک مومن کبھی بھی مسلم نہیں ہو سکتا،
 ٹھیک ویسے ہی جیسے ایک مسلم کبھی مومن نہیں ہو سکتا ،
 کیونکہ وہ اسلام کو تسلیم کے ہوئے ہے. 
لفظ مومن پر اسلام بالجبر قبضہ کئے ہوئے ہے. 

***********************************

حق بجانب
غور کریں کہ اللھ کی ان باتوں میں کوئی دم و درود بھی ہے یا یوں ہی مسلم دنیا اسے آنکھ بند کرکے ان نا حق فرمانوں کو حق بجانب گردانتی ہے ٠  





**************************************
جیم. مومن 

Thursday, 6 December 2012

Haq B Janib 52


دین 

دین دیانت کا مرکز ہے . محمدی الله دیانت داری ہو ہی نہیں سکتا،
اسی طرح قرانی پیغمبر بھی جھوٹ ہے. 
ایک مومن کبھی بھی مسلم نہیں ہو سکتا،
 ٹھیک ویسے ہی جیسے ایک مسلم کبھی مومن نہیں ہو سکتا ،
 کیونکہ وہ اسلام کو تسلیم کے ہوئے ہے. 
لفظ مومن پر اسلام بالجبر قبضہ کئے ہوئے ہے. 

*****************************
 وجدانی کیفیت 




قران محمّد کی وجدانی کیفیت میں بکی ہوئی اونٹ پٹانگ باتوں کا مجموعۂ کلام ہے جس کا کچھ جنگی فتوحات کے بعد محممدی غلبہ قایم ہو جانے کے بعد، مذاق اڑانا جرم قرار دے دیا گیا. جنگوں 
سے حاصل مالِ غنیمت نے اسے مقدّس بنا دیا. فتح مکّہ کے بعد تو یہ اُمّی کی پوتھی شریعت بن کر ممالک کے قانون قائدے بننے لگی . اسکے مجرمین علمہ 
نے تلوار کے ساۓ میں اپنے ظرف و ضمیر کو گروی رکھنا شروع کر دیا، تواس میدان میں علمہ کی دوڑ میں دروغ گوئی کا مقابلہ شروع ہوگیا. شکشت خوردہ حکمرانوں اور مجبورومظلوم عوام نے اسے تسلیم کرنا شروع کر دیا. 
پھوہڑ زبان میں متضاد باتیں، وجد کی بک بک بے وقعت قصّے، گڑھے ہوئے واقعے ،بغض اور مکر کی گفتگو، جھوٹ کے سیکڑوں اقسام کو ڈھکنے کے لئے محمّد نے اسے تلاوت کا کلام بنا دیا نہ کہ سمجھنے اور سمجھانے کا . 
جھوٹ کی صداقت یہ ہے کہ وہ اپنا پختہ ثُبووت اپنے پیچھے چھوڈ جاتا ہے. قران کو تحریری شکل میں محفوظ کرنے کا محمّد کا کوئی ارادہ نہیں تھا. یہ تو یاد داشت کے طور پر سینہ در سینہ قبیلائی منتر چلتے رہنے کا ایک سلسلہ تھا. قران کی اوقات یہی بتلاتی ہے ، مگر محمّد کے مرنے کے بعد چوتھے خلیفہ عثمان غنی کو تب جھٹکا لگا جب اس کے حافظ جنگوں میں موت کے گھاٹ اتارے جانے لگے. انکو لگا کہ ایک دن ایسا بھی آ سکتا ہے کہ اسکو پڑھنے والا ہی کوئی نہ بچے.اور سینہ در سینہ متقلی ہی نہ ہو سکے. تب انہوں نے قران کے بکھرے ہوئے نسخوں کو چمڑوں، پیڑ کی چلوں، پتھر کی سلیٹوں اورکاغذوں پر جہاں جیسا ملا ، اکٹٹھ کیا. اسمیں سے آدھے سے زیادہ قرانی نسخے رددی کی ٹوکری میں ڈالے جو موجودہ قران سے بھی زیادہ نامعقول تھے. باقی بچا قران آپ کے آگے جھوٹ کا پیکر بنا کھڑا ہے، جس کا حشر حشر بھی مستقبل قریب میں آپکے سامنے ہوگا. 
میں آپکے سامنے ہوگا.
***








8




جیم. مومن