Wednesday, 29 February 2012

Haq B Janib 14

 کٹھ مللاؤں جیسے عام مسلمانوں کا تکیہ کلام ہوتا ہے " قران میں مکمّل نظامِ حیات ہے"
مندرجہ بالا آیتیں پڑھیں جو کہ قانون قرآنی ہیں، دیکھیں کہ کیں نظامِ حیات ہیں؟ کیا آج کے وقت میں یہ  زندگی کے لئے کوئی نظام بھی ہیں؟
بلکہ اگر ہیں بھی تو محلق ترین ہیں.آج اگر اس پر عمل کریں تو جیل کی ہوا کھا یں . آپ کہیںگے کہ وہ وقت اور تھا اور وقت کے حساب سے قانون بنے تھے. بلکل صحیح ، مذہب بھی وقت کے حساب سے تھا اسمیں چپکے رہنا جہالت ہی ہے. آج کا مذہبِ نو انسانیت ہے. بس اسی کو اپنانے کی ضرورت ہے.

Friday, 24 February 2012

Haq B Janib


مندرجہ ذیل آیتوں میں الله بار بار اپنی کتاب قران کی تعریف کرتا ہے اور اس بات کا یقین دلاتا ہے کہ وہ بر حق ہے . کسی طاقت کو اس بات کا یقین دلانے کی کیوں ضرورت پر رہی ہے کہ وہ طاقت ور ہے ؟ مجھے حیرت بھرا افسوس ہوتا ہے کہ مسلمان اس بات کو کیوں بہن سمجھتا کہ یہ باتیں ایک کمزور فرد محمّد کی ہیں، کسی طاقت ور الله کی نہیں ہیں. اگر ایسا کمزور الله ہو سکتا ہے تو نتیجتن اسکے ماننے والے اتنے ہی کمزور ہونگے، جو مسلمان ہیں. مسلمان اتنے کمزور ہیں  کہ اسلام آنے کے بعد وہ ایک سوئی جیسی چھوٹی چیزوں کی ایجاد بھی نہیں کر سکے. یہ بے شرمی سے کہتے ہیں کہ ان ایجادوں کے لئے ہمارے غلام ہیں نہ، ہم تو اُس اوپر کی دنیا  کے مالک ہیں جہاں کوئی عمروں کا زوال نہیں ہے.   
















Friday, 17 February 2012

Haq B Janib 12

قران کی بےداغ آیتیں عام مسلمانو کی خدمات میں پیش ہیں  . مینے انہیں  بےداغ اسلئے کہا کہ قران کو ہمیشہ قاریو کے لئے عالموں نے  داغدار کرنے کے  بعد ہی پیش کیا ہے. کج ادا عالم قران کو مسلمانوں کے لئے بغیر اپنے آمیزش  کے پڑھنے ہی نہیں دیا. الله کی باتوں میں اپنی راۓ تھوپ کر ہی قران کو مکمّل سمجھتے ہیں. آپکو سمجھنا ہے کہ قران کہتا کیا ہے؟
 الله نے کیا کہا ہے؟
اس میں دیکھیں کہ کوئی معقولیت ہے بھی یا الله کی باتیں نامعقول بھی ہو سکتی ہیں. انسانی زندگی کے لئے کارگر بھی ہیں یا نہیں؟
کسی بڑبولے کو آپ پسند کرینگے یا ناپسند؟
 خود اپنی تعریف گانے والا کیا مناسب ہوگا بھلے ہی وہ الله کیوں نہ ہو. سوچئے کہ وہ طاقت بھلا اپنی شیخی کیوں بگھارے گا جو ذرّے ذرّے میں ہے. وہ بندوں پر اپنی نعمتوں کا احسان کیوں لادیگا؟ موجووگا سوورتوں میں دیکھئے کہ الله کسی کمظرف کی طرح بات کرتا ہے.
مسلمانوں! جاگو. اپنے اندر ایک انقلابی انسان پیدا کرو. محمّد کا قران تمہیں کہیں کا نہیں رکھکھے ہوئے ہے، نہ دین کا نہ دنیا کا.