Thursday, 30 May 2013
Friday, 24 May 2013
Haq B Janib 77
دین
دین دیانت کا مرکز ہے . محمدی الله دیانت داری ہو ہی نہیں سکتا،
اسی طرح قرانی پیغمبر بھی جھوٹ ہے.
ایک مومن کبھی بھی مسلم نہیں ہو سکتا،
ٹھیک ویسے ہی جیسے ایک مسلم کبھی مومن نہیں ہو سکتا ،
کیونکہ وہ اسلام کو تسلیم کے ہوئے ہے.
لفظ مومن پر اسلام بالجبر قبضہ کئے ہوئے ہے.
****************
موجودہ حق بجانب کا سلسلہ سلجھے ہوئے مسلمانوں کے سامنے پیش ہے .اس میں الله کے بنے استاد یعنی مترججم اور تفسیر نگاروں کا کو داخل نہیں . آپ دیکھیں کہ اس کلام میں ایسی گھٹیا قسم کی باتیں ہیں ، کیا یہ کسی الله سازگار کاینات کی ہو سکتی ہیں ؟
مسلمان از خود ان باتوں کو اعلانیہ مذمّت نہیں کریگا ، قوم دوسروں کی نظر میں سرخرو نہیں ہو سکتی .
مسلم سے ہٹ کر مومن بنو .





موجودہ حق بجانب کا سلسلہ سلجھے ہوئے مسلمانوں کے سامنے پیش ہے .اس میں الله کے بنے استاد یعنی مترججم اور تفسیر نگاروں کا کو داخل نہیں . آپ دیکھیں کہ اس کلام میں ایسی گھٹیا قسم کی باتیں ہیں ، کیا یہ کسی الله سازگار کاینات کی ہو سکتی ہیں ؟
مسلمان از خود ان باتوں کو اعلانیہ مذمّت نہیں کریگا ، قوم دوسروں کی نظر میں سرخرو نہیں ہو سکتی .
مسلم سے ہٹ کر مومن بنو .





جیم. مومن
Friday, 17 May 2013
Haq B Janib 76
دین
دین دیانت کا مرکز ہے . محمدی الله دیانت داری ہو ہی نہیں سکتا،
اسی طرح قرانی پیغمبر بھی جھوٹ ہے.
ایک مومن کبھی بھی مسلم نہیں ہو سکتا،
ٹھیک ویسے ہی جیسے ایک مسلم کبھی مومن نہیں ہو سکتا ،
کیونکہ وہ اسلام کو تسلیم کے ہوئے ہے.
لفظ مومن پر اسلام بالجبر قبضہ کئے ہوئے ہے.
جیم. مومن
******************
قران کسی الله کا کلام نہیں بلکہ امی محمّد کی من گڑھنٹ ہے
جسکی مکروح فرمودات مسلمانوں کو پامال کے ہوئے ہے ٠
******************
قران کسی الله کا کلام نہیں بلکہ امی محمّد کی من گڑھنٹ ہے
جسکی مکروح فرمودات مسلمانوں کو پامال کے ہوئے ہے ٠
Thursday, 9 May 2013
Friday, 3 May 2013
Haq B Janib 74
دین
دین دیانت کا مرکز ہے . محمدی الله دیانت داری ہو ہی نہیں سکتا،
اسی طرح قرانی پیغمبر بھی جھوٹ ہے.
ایک مومن کبھی بھی مسلم نہیں ہو سکتا،
ٹھیک ویسے ہی جیسے ایک مسلم کبھی مومن نہیں ہو سکتا ،
کیونکہ وہ اسلام کو تسلیم کے ہوئے ہے.
لفظ مومن پر اسلام بالجبر قبضہ کئے ہوئے ہے.
جیم. مومن
****************
وجدانی کیفیت
****************
وجدانی کیفیت
قران محمّد کی وجدانی کیفیت میں بکی ہوئی اونٹ پٹانگ باتوں کا مجموعۂ کلام ہے جس کا کچھ جنگی فتوحات کے بعد محممدی غلبہ قایم ہو جانے کے بعد، مذاق اڑانا جرم قرار دے دیا گیا. جنگوں
سے حاصل مالِ غنیمت نے اسے مقدّس بنا دیا. فتح مکّہ کے بعد تو یہ اُمّی کی پوتھی شریعت بن کر ممالک کے قانون قائدے بننے لگی . اسکے مجرمین علمہ
نے تلوار کے ساۓ میں اپنے ظرف و ضمیر کو گروی رکھنا شروع کر دیا، تواس میدان میں علمہ کی دوڑ میں دروغ گوئی کا مقابلہ شروع ہوگیا. شکشت خوردہ حکمرانوں اور مجبورومظلوم عوام نے اسے تسلیم کرنا شروع کر دیا.
پھوہڑ زبان میں متضاد باتیں، وجد کی بک بک بے وقعت قصّے، گڑھے ہوئے واقعے ،بغض اور مکر کی گفتگو، جھوٹ کے سیکڑوں اقسام کو ڈھکنے کے لئے محمّد نے اسے تلاوت کا کلام بنا دیا نہ کہ سمجھنے اور سمجھانے کا .
جھوٹ کی صداقت یہ ہے کہ وہ اپنا پختہ ثُبووت اپنے پیچھے چھوڈ جاتا ہے. قران کو تحریری شکل میں محفوظ کرنے کا محمّد کا کوئی ارادہ نہیں تھا. یہ تو یاد داشت کے طور پر سینہ در سینہ قبیلائی منتر چلتے رہنے کا ایک سلسلہ تھا. قران کی اوقات یہی بتلاتی ہے ، مگر محمّد کے مرنے کے بعد چوتھے خلیفہ عثمان غنی کو تب جھٹکا لگا جب اس کے حافظ جنگوں میں موت کے گھاٹ اتارے جانے لگے. انکو لگا کہ ایک دن ایسا بھی آ سکتا ہے کہ اسکو پڑھنے والا ہی کوئی نہ بچے.اور سینہ در سینہ متقلی ہی نہ ہو سکے. تب انہوں نے قران کے بکھرے ہوئے نسخوں کو چمڑوں، پیڑ کی چلوں، پتھر کی سلیٹوں اورکاغذوں پر جہاں جیسا ملا ، اکٹٹھ کیا. اسمیں سے آدھے سے زیادہ قرانی نسخے رددی کی ٹوکری میں ڈالے جو موجودہ قران سے بھی زیادہ نامعقول تھے. باقی بچا قران آپ کے آگے جھوٹ کا پیکر بنا کھڑا ہے، جس کا حشر حشر بھی مستقبل قریب میں آپکے سامنے ہوگا.
میں آپکے سامنے ہوگا.
***
Subscribe to:
Posts (Atom)


























