Wednesday, 29 August 2012

khuda


دین 

دین دیانت کا مرکز ہے . محمدی الله دیانت داری ہو ہی نہیں سکتا،
اسی طرح قرانی پیغمبر بھی جھوٹ ہے. 
ایک مومن کبھی بھی مسلم نہیں ہو سکتا،
 ٹھیک ویسے ہی جیسے ایک مسلم کبھی مومن نہیں ہو سکتا ،
 کیونکہ وہ اسلام کو تسلیم کے ہوئے ہے. 
لفظ مومن پر اسلام بالجبر قبضہ کئے ہوئے ہے. 



جیم. مومن 

Thursday, 23 August 2012

Haq B Janib- 37


دین 

دین دیانت کا مرکز ہے . محمدی الله دیانت داری ہو ہی نہیں سکتا،
اسی طرح قرانی پیغمبر بھی جھوٹ ہے. 
ایک مومن کبھی بھی مسلم نہیں ہو سکتا،
 ٹھیک ویسے ہی جیسے ایک مسلم کبھی مومن نہیں ہو سکتا ،
 کیونکہ وہ اسلام کو تسلیم کے ہوئے ہے. 
لفظ مومن پر اسلام بالجبر قبضہ کئے ہوئے ہے.

************* 


جیم. مومن 

Wednesday, 15 August 2012

Haq B Janib -36


دین 

دین دیانت کا مرکز ہے . محمدی الله دیانت داری ہو ہی نہیں سکتا،
اسی طرح قرانی پیغمبر بھی جھوٹ ہے. 
ایک مومن کبھی بھی مسلم نہیں ہو سکتا،
 ٹھیک ویسے ہی جیسے ایک مسلم کبھی مومن نہیں ہو سکتا ،
 کیونکہ وہ اسلام کو تسلیم کے ہوئے ہے. 
لفظ مومن پر اسلام بالجبر قبضہ کئے ہوئے ہے. 



بہت سے القابوں کے ساتھ ساتھ خود ساختہ الله کے رسول کا ایک لقب اوممی بھی ہے، جسکے لفظی معنی تو ہیں نا خواندہ ،انپڑھ  اور جاہل، جسے اسلامی اصطلاح میں علما لکھتے ہیں "وہ شخص اجسکا باپ اسکے بچپن میں ہی مر جاۓ جسکی وجہ سے وہ تعلیم حاصل نہ کر پاۓ."
اسلامی علما نے الفاظ کے معنوں میں اسلام کو مسلّط کیا ہے ، جیسے کہ عوام پر اسلام کو کیا. اس طرح ذلّت پر بھی عزت کا لبادہ پہنا دیا اور لفظ آوممی مقدّس ہو گیا. یہ اسلامی علما کا خاصّہ ہے کہ یہ الفاظ کے مانی و مطلب بدل دیتے ہیں ، اسکی مِثآل آگے آتی رہیگی. کہ لفظوں کا "اسلامی کرن" کیسے کیا.
محمّد نرے اوممی تھے ، مطلق جاہل. یہ قرآن ان پڑھ اور اجڈ کا ہی دیوان ہے ، جسے انکے گڑھے ہوئے الله کا کلام کہا جاتا ہے. علما نے قرآن کے ہیولے گڑھے اور اسکے بڑے بڑے مراتب مقرر کئے، اسکی بلند ترین میناریں قایم کیں ، اسے منطق اور سائنس کا جامہ پہنایا گیا ، اسے راز و نیاز کا دفینہ قرار دیا گیا. اسے عظمتوں کا نشان کہنے لگے تو کہیں پر جنّت کی کنجی لکھا گیا. عالموں کا ڈھنڈھورا ہے کہ بہر حال قرآن نجات کی رہ ہے. نظام حیات تو ہر عدنا پدنا مسلمان اسکو کہنے میں پھولے نہیں سماتا، گوکہ دن و رات مسلمان انھیں قرآنی آیتوں کی گمراہیوں میں مبتلا , پسپایوں میں سماتا چلا جا رہا ہے. عام مسلمان از خود کبھی قرآن کو سمجھنے اور بوجھنے کی کوشش نہیں کرتا ، اسے ہمیشہ یہی عییار عالمان دین ہی سمجھتے ہیں
اسلام کیا ہے؟ اسکی برکت کیا ہے؟؟چھوٹے سے لیکر بڑے تک سارے مسلمان دانشتہ اورغیر دانشتہ طور پر اسکے جھوٹ اور کھوکھلے فائدے اور برکتوں سے جڑے ہوئے ہیں. ان عالموں کا سب سے بڑا ذریہ معاش اسلام ہے، جوکہ محنت کش عوام پر منحصر کرتا ہے یعنی باقی قوموں سے بچنے کے بعد مسلمان خود مسلمان کا استحصال کرتا  ہے.



یہ کائنات آج سے اربوں خرابوں سال پہلے وجود میں آئ تھی، اس بیچ صرف چودہ سو سال پہلے ہی الله نے منہ میں زبان پایا اور قرانی خرافات بکا، وہ بھی کل تیئس (٢٣ ) سال اور چار مہینے؟ (مفروضہ رسول کی عمر پیمبری) اسکے بعد الله ایسے غیب ہوا جیسے گدھے کے سر سے سینگ . اس دوران اسنے یہودیوں کے فرشتے gibreel کو پکڑا اور قرانی آیتوں کا سسلہ اسکے کانوں میں بھرنا شروع کیا، پھر اسنے الله کی باتیں محمّد کے کانوں میں پھسکا اور اسکے بعد محمّد نے با آواز بلند اعلان کیا.
اس طرح بنتی رہی قرآن ؟
جیم. مومن 

Thursday, 9 August 2012

حق بجانب -٣٥


دین 

دین دیانت کا مرکز ہے . محمدی الله دیانت داری ہو ہی نہیں سکتا،
اسی طرح قرانی پیغمبر بھی جھوٹ ہے. 
ایک مومن کبھی بھی مسلم نہیں ہو سکتا،
 ٹھیک ویسے ہی جیسے ایک مسلم کبھی مومن نہیں ہو سکتا ،
 کیونکہ وہ اسلام کو تسلیم کے ہوئے ہے. 
لفظ مومن پر اسلام بالجبر قبضہ کئے ہوئے ہے. 

********************

 
محمّد کی ٢٥ صالح شروعاتی زندگی کے بارے میں کچھ نہیں ملتا سواۓ اسکے کہ وہ پیدائشی یتیم تھے اور دائی حلیمہ کو دودھ پلائی کے لئے دے
دے گے تھے جہاں وہ اتنے بڑے ہو گئے تھے کہ انکی بکریاں چرانے لگے تھے پھر مدینہ آکر اہل مدینہ کی بکریاں چرانے کا کام کرنے لگے تھے . اس بات کو دبی زبان علما بھی کہتے ہیں اور خود حدیث میں محمّد بھی عتراف کرتے ہیں.
انکی ماں آمنہ کی حبشن لونڈی ایمن انکے ساتھ ساتھ انکی شادی کے بعد تک رہی تھی جسے انہونے اپنے گود لئے بیٹے زید کے ساتھ عقد کر کے اسکے سر منڑھ دیا تھا .
محمّد طبیعتن کاحل اور نکممے تھے ، اسی لئے بکری چرانے کا آسان کم کیا کرتے. متشائر بھی تھے ، تمام قران ایک پھوہڑ شاعری ہی تو ہے . شاعر اکثر ناکارہ اور باتونی ہوتے ہیں اگر وہ کہیں متشائر ہوئے.
ایک بار محمّد کے چچا انکو کاروباری سفر میں اپنے ساتھ مدینہ سے بہار لے گے، مگر انکی کمیاں انکو راس نہ آئین اور انکو راستے سے ہی واپس لوٹا دیا. محمّد کی اس خامی کو بھی علما انکی خوبیوں میں دھلے ہوئے ہیں.
بس ٢٥ سالہ زندگی کی اتنی سی کہانی ہے جناب سللللہ عالیہ وسلّم کی.
مکّہ میں ہوا کرتی تھی ایک خود سر مالدار عورت جسنے دو مردوں سے چھٹکارہ لیکر ، انسے ہوئے تین بچوں کے ساتھ رہا کرتی تھی ، جس کو ایک عدد نؤ جوان خدمت گذار اور فرما بردار شوھر کی ضرورت تھی . محمّد اسکے فریم میں ایکدم فٹ بیٹھے، اسنے سیدھے آفر دیا، محممد نے اپنے چچاؤں سے پوچھا، سب نے ایک زبان میں ھاں کہ دیا. کہ چلو کسی نے تمہیں دیکھا تو بھلے ہی تمہاری ماں کی عمر کی کیوں نہ ہو.
گویہ چالیس سالہ خدیجہ سے ٢٥ سالہ محمّد کی شادی ہو گئی . محمّد کو جورو ماتا مل گئیںاور خدیجہ کو برخوردار محمّد .
محمّد نے خدیجہ کی زندگی میں کسی جنس لطیف کو آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھا بلکہ لونڈی ایمن کو بھی انہوں نے نکل بہار کیا ، انکے مرتے ہی محمّد چھٹہ سانڈ ہو گے جہاں موقہ دیکھا منہ مارنا شروع کر دیا. سات سال کی عایشہ ہو یا ڈیڑھ من کی 
سودا .



حق بجانب 










جیم. مومن 

Saturday, 4 August 2012

Haq B Janib 34


دین 

دین دیانت کا مرکز ہے . محمدی الله دیانت داری ہو ہی نہیں سکتا،
اسی طرح قرانی پیغمبر بھی جھوٹ ہے. 
ایک مومن کبھی بھی مسلم نہیں ہو سکتا،
 ٹھیک ویسے ہی جیسے ایک مسلم کبھی مومن نہیں ہو سکتا ،
 کیونکہ وہ اسلام کو تسلیم کے ہوئے ہے. 
لفظ مومن پر اسلام بالجبر قبضہ کئے ہوئے ہے. 

مسلمانو!
تم ایک جھوٹی زندگی جی رہے ہو، جس پر اسلام کا ناجایز قبضہ ہے. اسلام جو کہ ہمیشہ ہی جھوٹھے اور مکّار علما کے ہاتھوں میں رہا ہے.
سچ کو سمجھو اور ایک ایماندار مومن بنو.



جیم. مومن