Thursday, 26 April 2012

Haq B Janib 22


دین 

دین دیانت کا مرکز ہے . محمدی الله دیانت داری ہو ہی نہیں سکتا،
اسی طرح قرانی پیغمبر بھی جھوٹ ہے. 
ایک مومن کبھی بھی مسلم نہیں ہو سکتا،
 ٹھیک ویسے ہی جیسے ایک مسلم کبھی مومن نہیں ہو سکتا ،
 کیونکہ وہ اسلام کو تسلیم کے ہوئے ہے. 
لفظ مومن پر اسلام بالجبر قبضہ کئے ہوئے ہے. 

بستی کے مکان اپنی چھتوں پر گر گے تھے. الله نشے میں ہے یا اسکو نیند آ رہی ہے. 
جی ہاں ! یہ سب قرانی آتتیں ہیں جنہیں آپ نمازوں میں پڑھتے ہیں.
کیا حاصل ہوا ؟ قران میں یہی سب ہے اور کچھ بھی نہیں.
جیم. مومن 

Friday, 20 April 2012

Haq B Janib -22


دین 

دین دیانت کا مرکز ہے . محمدی الله دیانت داری ہو ہی نہیں سکتا،
اسی طرح قرانی پیغمبر بھی جھوٹ ہے. 
ایک مومن کبھی بھی مسلم نہیں ہو سکتا،
 ٹھیک ویسے ہی جیسے ایک مسلم کبھی مومن نہیں ہو سکتا ،
 کیونکہ وہ اسلام کو تسلیم کے ہوئے ہے. 
لفظ مومن پر اسلام بالجبر قبضہ کئے ہوئے ہے. 
 انسان خود سے برتر چیزوں کی قسمیں کھاتا ہے یا اپنے خالق کی. الله اسکے برخلاف کیسی  قسم کھاتا ہے ، اپنے خلق کی. قسمیں کھانا محمّد عربی کی لت ہی جو فطری طور پر خود سے برتر ستارے کی قسم کھاتے ہیں. وہ بھی جب غروب ہونے لگے، کیا منطق ہے؟ 
قسمیں کھا کھا کر وہ اپنے پیغمبری کا یقین دلاتے ہیں؟ کیا یہ انکے جھوٹے ہونے کی علامت نہیں؟ وہ فرشتہ بڑا طاقت ور ہے؟ یہ فرشتے کی جھوٹی تعریف کا کوئی  موقعہ نہیں کہ وہیی لانے میں طاقت کی ضرورت ہوتی ہے؟ 
محمد کس قدر بیہودہ سوال کرتے ہیں. مسلمانوں کے لئے سوچنے کا مقام ہے.

مسلمانو! کیا ٹھرا الله ہلاکو ہے؟
اس طرح اپنے قادر ہونے کی بیہودہ بکواس کر رہا ہے.

قران بزد خود مکمّل اور مجسّم جہالت ہے، یہ بات الله کھول کھول کر بلاتا ہے پھر بھی مسلمان اسکے دیوانے ہیں. یہی وجہ ہے کہ اس ناقدری قوم پر تمام دنیا کی لینت برس رہی ہے.

 محمدی الله کہتا ہے کہ بندوں کو پیدا کرنا مشکل ہے یا آسمان کو بنانا؟ زمین پھیلاتا  ہے پھر بندوں کو نطفے سے بناتا ہے، پھر انداز سے . . .
آج زمانہ اکیسویں صدی میں آ گیا ہے. قران کا ا علان  غلط ہو چکا ہے. انکو ڈھوتے رہنا پسماندگی کی علامت ہے.
قران محمدی جہالت کے سوا کچھ بھی نہیں.

محمد قران کو عجیب طور پر بکھانتے  ہیں. بات کرنے کا سلیقہ بھی نہیں ہے.
مسلمان عجیب طور پر اس بیان کو سر آنکھ پر ڈھوتے ہے. سب سے برا حیرت کا مقام یہ ہے.

محمد قران کو عجیب طور پر بکھانتے  ہیں. بات کرنے کا سلیقہ بھی نہیں ہے.
مسلمان عجیب طور پر اس بیان کو سر آنکھ پر ڈھوتے ہے. سب سے برا حیرت کا مقام یہ ہے.

مسلمانو! 
اسلام  کی قلعی کھل گئی ہے 
تمہارا نہ کوئی ساتھی بچا ہے نہ مددگار 
ہر طرف تم پر تھو تھو ہو رہی ہے.
جاگو! ابھی سویرا ہے.
تم کو صرف مسلم سے مومن بننا ہے.
مومن  ؟
یعنی حق پرست ایمان کی بات کہنے والا.
اسلامی ایمان دھوکھ کی تتی ہے.


جیم. مومن 

Thursday, 12 April 2012

Haq B Janib 20


دین 

دین دیانت کا مرکز ہے . محمدی الله دیانت داری ہو ہی نہیں سکتا،
اسی طرح قرانی پیغمبر بھی جھوٹ ہے. 
ایک مومن کبھی بھی مسلم نہیں ہو سکتا،
 ٹھیک ویسے ہی جیسے ایک مسلم کبھی مومن نہیں ہو سکتا ،
 کیونکہ وہ اسلام کو تسلیم کے ہوئے ہے. 
لفظ مومن پر اسلام بالجبر قبضہ کئے ہوئے ہے. 

مولانا اشرف علی تھانوی نے مسلم دنیا پر بہت بڑا احسان کیا ہے جو انجانے میں قران کا اردو ترجمہ خالص کر گے. وہیں 
دوسری طرف مسلمانوں کیے ساتھ بڑا ظلم کیا ہے  جو نکو گمراہ کر گے. جی ہاں ! اپنے کام میں جہاں ایمانداری کیے ساتھ خاکس ترجمہ کیا ہے، وہیں بے ایمانی برتی ہے کہ مفروضہ محممدی الله کی استادی کی ہے.انکا پورے قران میں  بریکٹ   لگا کر یہ سمجھانے کا طریقہ کہ " الله کیے کہنے کا مطلب . . . . یہ ہے" اسکے بعد تفسیریں لکہ کر مسلم عوام کی آنکھوں میں  دھول جھونکا ہے.
مذبذب تحریر کو با معنی کر دیا ہے. الله کی کیا مجبوری تھی کہ وہ ایسی   غیر واضح کلام بکتا؟ وہ ہستی الله ہو ہی نہیں سکتی جو صاف صاف کلام نہ کر سکے. خود قران اس بات کی چغلی کرتا ہے کہ یہ کسی چالاک امی کا  بیان ہے. وہ امی محمّد کیے علاوہ کون ہو سکتا ہے؟ اپنی بکواس کو کلام الاہی قرار دیا جو ہر جگہ مذاق ثابت ہوتا ہے.
مسلمانوں کی عقل پر پالا پڑ گیا ہیں کہ الله عربی زبان میں بولتا بھی ہے.اسے بولنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں کہ الفاظ سے بندوں کو سمجھے اور سمجھے ، اسے کمال حاصل ہے کہ جو چاہے کردے. ڈرانے دھمکانے کا کم تو خاصکر حضرت انسان کا ہے.
 مسلمانوں ! جاگو جھوٹی قوم دنیا میں سرخرو ہو ہی نہیں سکتی.  
جیم. مومن 

Thursday, 5 April 2012

Haq B Janib 19


دین 

دین دیانت کا مرکز ہے . محمدی الله دیانت داری ہو ہی نہیں سکتا،
اسی طرح قرانی پیغمبر بھی جھوٹ ہے. 
ایک مومن کبھی بھی مسلم نہیں ہو سکتا،
 ٹھیک ویسے ہی جیسے ایک مسلم کبھی مومن نہیں ہو سکتا ،
 کیونکہ وہ اسلام کو تسلیم کے ہوئے ہے. 
لفظ مومن پر اسلام بالجبر قبضہ کئے ہوئے ہے. 



 جب کوئی جاہل اقتدار پر بزور لاٹھی آ جانے تواسکا پر جہل مشاہدہ اور مضائقہ معتوب اور مغلوب عوام کے لی ظالم کی جہالت اور قیادت ہی خداداد بن جاتی ہے.
دیکھئے کہ کیسی کیسی حکمتیں محمّد گڑھتے ہیں جس پر آج کے جگ میں مسلمان ایمان رکھتے ہیں.
ہر م   قبیلائی  تہذیبیں ایسے ہی ہنر رکھتے تھیں، جنکو انہوں نے رخصت کرکے خود کو وقت کے ساتھ جوڈ لیا مگر افسوس کہ مسلمانوں کو جو گھٹتی پلائی گئی ہے وہ زہر ہلاہل تھی جو اسکے موت کے بعد ہی ختم ہوتا ہے. وہ آج بھی انڈے کو بے جان مانتے ہیں جو پرندوں کے پتسے نکلتا ہے اور انڈے سے جاندار پردہ نکلتا ہے.انکو بتلایا گیا کہ چاند اور سورج چوہے بللی کے کھیل میں مصروف ہیں کوئی ایک دوسرے کو پکڑ نہیں سکتا. انسانو کا وجود کن کن مقروح طریقت سے قیام ہے.
محمّد کے وقتوں میں سورج ڈوب کر دنیا کو اندھیرے میں دبا دیا کرتا تھا مگر آجکا دور ہے کہ بجلی نے دنیا کی راتوں کو روشن کر دیا ہے . ان سب باتوں کو دیکھتے ہوئے بھی مسلمانو کا دماغ روشن نہیں ہورہا.   
جیم. مومن