Thursday, 31 January 2013

Haq B Janib 60


دین 

دین دیانت کا مرکز ہے . محمدی الله دیانت داری ہو ہی نہیں سکتا،
اسی طرح قرانی پیغمبر بھی جھوٹ ہے. 
ایک مومن کبھی بھی مسلم نہیں ہو سکتا،
 ٹھیک ویسے ہی جیسے ایک مسلم کبھی مومن نہیں ہو سکتا ،
 کیونکہ وہ اسلام کو تسلیم کے ہوئے ہے. 
لفظ مومن پر اسلام بالجبر قبضہ کئے ہوئے ہے. 
*******
قران مسلمانوں کو اپنے دائرے سے باھر نکلنے کی اجازت نہیں دیتا ، نتیجتن مسلمان عمر  بھر اسی دائرے میں رہ کر اسکی غیر فطری باتوں کو صحیح سمجھتا ہے ، فطری باتوں کو غلط . جب تک مسلمان اس دائرے کو توڑ کر باہر نہیں آتا ، زندگی کی حقیقتوں کو نہیں سمجھ سکتا. وہ وہم و گمان کی زندگی جیتا رہیگا ٠
آپ کچھ دیر کے قرانی دائرے سے باہر نکلیں اور دیکھیں کہ ان قرانی سطروں میں کیا دم ہے ؟ کیا یہ سطریں مسلمانوں کو گمراہ نہیں کر رہی ہَِن٠ 

*****





جیم. مومن 

Thursday, 24 January 2013

Haq B Janib 59


دین 

دین دیانت کا مرکز ہے . محمدی الله دیانت داری ہو ہی نہیں سکتا
اسی طرح قرانی پیغمبر بھی جھوٹ ہے 
ایک مومن کبھی بھی مسلم نہیں ہو سکتا
 ٹھیک ویسے ہی جیسے ایک مسلم کبھی مومن نہیں ہو سکتا 
 کیونکہ وہ اسلام کو تسلیم کے ہوئے ہے. 
لفظ مومن پر اسلام بالجبر قبضہ کئے ہوئے ہے

**************



مذکورہ سورہ ، سورہ رحمان ہی نہیں ، سورہ قہہار بھی ہے - کیا کوئی اللہ اپنے کلام میں ایسی غلطی کر سکتا ہے ؟ رحمتوں کی پڑیا میں زحمتیں لپیٹے؟
یہ احمق رسالت میں ہی باندھی گئی نعمت ہے جو اپنا مذاق خود اڑاتی ہے.
"دوزخ کے ارد گرد کھولتے ہوئے دریہ ہونگے "
 -ایسے تحفے نعمتوں میں میں شامل ہیں
__________________





جیم. مومن 

Thursday, 17 January 2013

Haq B Janib 58


دین 

دین دیانت کا مرکز ہے . محمدی الله دیانت داری ہو ہی نہیں سکتا،
اسی طرح قرانی پیغمبر بھی جھوٹ ہے. 
ایک مومن کبھی بھی مسلم نہیں ہو سکتا،
 ٹھیک ویسے ہی جیسے ایک مسلم کبھی مومن نہیں ہو سکتا ،
 کیونکہ وہ اسلام کو تسلیم کے ہوئے ہے. 
لفظ مومن پر اسلام بالجبر قبضہ کئے ہوئے ہے. 
*******


 وجدانی کیفیت 
قران محمّد کی وجدانی کیفیت میں بکی ہوئی اونٹ پٹانگ باتوں کا مجموعۂ کلام ہے جس کا کچھ جنگی فتوحات کے بعد محممدی غلبہ قایم ہو جانے کے بعد، مذاق اڑانا جرم قرار دے دیا گیا. جنگوں سے حاصل مالِ غنیمت نے اسے مقدّس بنا دیا. فتح مکّہ کے بعد تو یہ اُمّی کی پوتھی شریعت بن کر ممالک کے قانون قائدے بننے لگی . اسکے مجرمین علمہ نے تلوار کے ساۓ میں اپنے ظرف و ضمیر کو گروی رکھنا شروع کر دیا، تواس میدان میں علمہ کی دوڑ میں دروغ گوئی کا مقابلہ شروع ہوگیا. شکشت خوردہ حکمرانوں اور مجبورومظلوم عوام نے اسے تسلیم کرنا شروع کر دیا-
پھوہڑ زبان میں متضاد باتیں، وجد کی بک بک ، بے وقعت قصّے، گڑھے ہوئے واقعے، بغض اور مکر کی گفتگو، جھوٹ کے سیکڑوں اقسام کو ڈھکنے کے لئے محمّد نے اسے تلاوت کا کلام بنا دیا نہ کہ سمجھنے اور سمجھانے کا - 
جھوٹ کی صداقت یہ ہے کہ وہ اپنا پختہ ثُبووت اپنے پیچھے چھو ڑ جاتا ہے. قران کو تحریری شکل میں محفوظ کرنے کا محمّد کا کوئی ارادہ نہیں تھا. یہ تو یاد داشت کے طور پر سینہ در سینہ قبیلائی منتر چلتے رہنے کا ایک سلسلہ تھا. قران کی اوقات یہی بتلاتی ہے ، مگر محمّد کے مرنے کے بعد چوتھے خلیفہ عثمان غنی کو تب جھٹکا لگا جب اس کے حافظ جنگوں میں موت کے گھاٹ اتارے جانے لگے. انکو لگا کہ ایک دن ایسا بھی آ سکتا ہے کہ اسکو پڑھنے والا ہی کوئی نہ بچے.اور سینہ در سینہ منتقلی ہی نہ ہو سکے. تب انہوں نے قران کے بکھرے ہوئے نسخوں کو چمڑوں، پیڑ کی چھالوں ، پتھر کی سلیٹوں اورکاغذوں پر جہاں جیسا ملا ، اکٹٹھ کیا. اسمیں سے آدھے سے زیادہ قرانی نسخے رددی کی ٹوکری میں ڈالے جو موجودہ قران سے بھی زیادہ نامعقول تھے. باقی بچا قران آپ کے آگے جھوٹ کا پیکر بنا کھڑا ہے، جس کا حشربھی مستقبل قریب میں آپکے سامنے ہوگا- 

********************************************

پیش ہیں جہادی آیتیں جنکی پردہ پوشی آج مذہبی اور سیاسی گندے کرتے پھرتے ہیب اور جہاد کے معنی جد و جہد کے بتلاتے ہیں - اسلام جنگ و قتل و غارت گری کے سبق دیتا ہے ، وہ بھی لوٹ مار کرنے کے لئے - قبیلائی لٹیرے اس لوٹ پاٹ سے حاصل مال کو "مال غنیمت" کہا کرتے تھے ٠ 


7
___________________________
جیم. مومن 

Thursday, 10 January 2013

Haq B Janib 57


دین 

دین دیانت کا مرکز ہے . محمدی الله دیانت داری ہو ہی نہیں سکتا،
اسی طرح قرانی پیغمبر بھی جھوٹ ہے. 
ایک مومن کبھی بھی مسلم نہیں ہو سکتا،
 ٹھیک ویسے ہی جیسے ایک مسلم کبھی مومن نہیں ہو سکتا ،
 کیونکہ وہ اسلام کو تسلیم کے ہوئے ہے. 
لفظ مومن پر اسلام بالجبر قبضہ کئے ہوئے ہے. 

**********************************


جہاد
 
قران میں دیکھیں کہ محمدی الله جہاد کو مسلمانوں کے لئے مقدّس کئے ہوئے ہے - جہاد جو محمد نے ایجاد کی تھی وہ اسلام پر ایک بد نما داغ ہے - الله کہتا ہے تم بنا چوں چرا اسلام قبول کرو اور اس کے تحت ٹکس الله اور اسکے رسول کو ادا کرو،
 دوسری صورت یہ ہے کی اسلام کو تسلیم نہ کرکے اپنے دھرم پر قائم رہتے ہوئے جزیہ ٹیکس ادا کرو جو میری منمانی ہوگا، 
تیسری صورت  یہ ہوگی کی مجھ سے جنگ کرو- 
تیسری صورت تو آنے کی نوبت ہی نہیں آتی کہ مسلمان محمّد کی پلاننگ کے مطابق صبح  تڑکے غیر مسلموں پر حملہ کرتے ، قتل و غارت گری کرکے ان کے سامنے اپنی شرط رکھتے- 
دھرم اور مذہب کے نام پر قوموں میں ایسے ناجائز اصول کبھی اور کہیں نہیں بنے جو اسلام نے رائج کئے ٠ 
جہاد آج بھی پاکستان اور افغانستان جیسے پسماندہ ملکوں میں رائج ہے، باقی اسلامی ممالک تیل کی دولت سے مالا مال ، انھیں اب مال غنیمت کی ضرورت ہی نہیں ہے٠
 اسلام اس دھرتی پر ایک ناجائز اور مکروہ نظام قایم ہوا ہے جسکی مخالفت پوری دنیا مل کر کر رہی ہے- مسلمانو کے پاس اسکے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچتا ہے کہ یہ بار اپنے لئے فیصلہ کن حل نکالن ٠ اسلام یا پھر کچھ اور - - - ٠ 

************



جیم. مومن 

Thursday, 3 January 2013

Haq B Janib -56


دین 

دین دیانت کا مرکز ہے . محمدی الله دیانت داری ہو ہی نہیں سکتا،
اسی طرح قرانی پیغمبر بھی جھوٹ ہے. 
ایک مومن کبھی بھی مسلم نہیں ہو سکتا،
 ٹھیک ویسے ہی جیسے ایک مسلم کبھی مومن نہیں ہو سکتا ،
یونکہ وہ اسلام کو تسلیم کے ہوئے ہے. 
لفظ مومن پر اسلام بالجبر قبضہ کئے ہوئے ہے. 

*********************************************









مسلمانو !
کیا یہ مندرجہ بد ترین باتیں کسی خدا ے برتر کی ہو سکتی ہیں ؟ جس دن تم اس کی حقیقت سے واقف ہو جاؤ گے ، تمہاری دنیا بدل جاۓگی ٠
 
جیم. مومن