Thursday, 5 December 2013

Haq B janib 107


دین 

دین دیانت کا مرکز ہے . محمدی الله دیانت داری ہو ہی نہیں سکتا،
اسی طرح قرانی پیغمبر بھی جھوٹ ہے. 
ایک مومن کبھی بھی مسلم نہیں ہو سکتا،
 ٹھیک ویسے ہی جیسے ایک مسلم کبھی مومن نہیں ہو سکتا ،
 کیونکہ وہ اسلام کو تسلیم کے ہوئے ہے. 
لفظ مومن پر اسلام بالجبر قبضہ کئے ہوئے ہے. 

جیم. مومن 
***********

نقش فریادی 
نقش فریادی ہے کسکی شوخی ے تحریر کا 
کاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا 

غالب کے دیوان کا یہ پہلا شعر ہے جس میں اسنے اپنے مزاج کے ا عتبار سے حمد کا اظہار کیا ہے . عجیب و غریب ان بوجھے خدا کی طرف اشارہ ہے ، نہ ہی اسکی تعریف کی ہے نہ ہی حمد، ایک حیرت کا اظہار کیا ہے . یہی خوش گوا ر حیرت اب تک کے خداؤں کی حقیقت ہے . اسکو لوگ اپنے مطلب کے عتبار سے شکل دیکر انسان کو گمراہ کئے ہوئے ہیں . غالب کہتا ہے یہ کون سی طاقت ہے کہ مخلوق کا ہر نقش فریادی ہے اور اپنے تشکیل و تعمیر کی تحریری اور اور تکمیلی تجسّس لئے ہوئے ہے کہ وہ کیا ہے ؟ اور کیوں ہے ؟ ؟ کون ہے اسکا خالق اور مالک ؟
گویہ غالب اب تک کے خداؤں کے وجود کا انکار کرتے ہوئے ایک سوالیہ نشان چھوڑتا ہے . وہ قدرت کو پوجنے کا ڈھونگ نہیں کرتا بلکہ اسکو اپنے محبوب کی طرح شوخ اور شریر بتلاتا ہے جو اسکے برابری کا درجہ ہی رکھتا ہے . اگر قدرقت کو اسی حد تک تسلیم کیا جاۓ تو بنی نوع انسان کا حال خوش گوار ہو سکتا ہے اور مستقبل سکوت پا سکتا ہے .
دوسرے مصرے میں غالب کہتا ہے کہ اس وجود فانی کا ہر لباس کاغذی ہے یعنی عارضی ہے . یہی وجود کا سچ ہے اور باقی تمام باتیں خارجی ہیں  
برج موہن چکبست غالب کے فلسفے کا اور خلاصہ کرتے ہوئے کہتے ہیں  

 زندگی کیا ہے ، عناصر میں ظہور ترتیب 
موت کیا ہے ، انھیں اجزا کا پریشاں ہونا    
*****************


No comments:

Post a Comment