دین
دین دیانت کا مرکز ہے . محمدی الله دیانت داری ہو ہی نہیں سکتا،
اسی طرح قرانی پیغمبر بھی جھوٹ ہے.
ایک مومن کبھی بھی مسلم نہیں ہو سکتا،
ٹھیک ویسے ہی جیسے ایک مسلم کبھی مومن نہیں ہو سکتا ،
کیونکہ وہ اسلام کو تسلیم کے ہوئے ہے.
لفظ مومن پر اسلام بالجبر قبضہ کئے ہوئے ہے.
********************
********************
محمّد کی ٢٥ صالح شروعاتی زندگی
کے بارے میں کچھ نہیں ملتا سواۓ اسکے کہ وہ پیدائشی یتیم تھے اور دائی حلیمہ کو
دودھ پلائی کے لئے دے
دے گے تھے جہاں وہ اتنے بڑے ہو گئے تھے کہ
انکی بکریاں چرانے لگے تھے پھر مدینہ آکر اہل مدینہ کی بکریاں چرانے کا کام کرنے
لگے تھے . اس بات کو دبی زبان علما بھی کہتے ہیں اور خود حدیث میں محمّد بھی عتراف
کرتے ہیں.
انکی ماں آمنہ کی حبشن لونڈی ایمن انکے ساتھ
ساتھ انکی شادی کے بعد تک رہی تھی جسے انہونے اپنے گود لئے بیٹے زید کے ساتھ عقد کر
کے اسکے سر منڑھ دیا تھا
.
محمّد طبیعتن کاحل اور نکممے تھے ، اسی لئے
بکری چرانے کا آسان کم کیا کرتے. متشائر بھی تھے ، تمام قران ایک پھوہڑ شاعری ہی تو
ہے . شاعر اکثر ناکارہ اور باتونی ہوتے ہیں اگر وہ کہیں متشائر
ہوئے.
ایک بار محمّد کے چچا انکو کاروباری سفر میں
اپنے ساتھ مدینہ سے بہار لے گے، مگر انکی کمیاں انکو راس نہ آئین اور انکو راستے سے
ہی واپس لوٹا دیا. محمّد کی اس خامی کو بھی علما انکی خوبیوں میں دھلے ہوئے
ہیں.
بس ٢٥ سالہ زندگی کی اتنی سی کہانی ہے جناب
سللللہ عالیہ وسلّم کی.
مکّہ میں ہوا کرتی تھی ایک خود سر مالدار عورت
جسنے دو مردوں سے چھٹکارہ لیکر ، انسے ہوئے تین بچوں کے ساتھ رہا کرتی تھی ، جس کو
ایک عدد نؤ جوان خدمت گذار اور فرما بردار شوھر کی ضرورت تھی . محمّد اسکے فریم میں
ایکدم فٹ بیٹھے، اسنے سیدھے آفر دیا، محممد نے اپنے چچاؤں سے پوچھا، سب نے ایک زبان
میں ھاں کہ دیا. کہ چلو کسی نے تمہیں دیکھا تو بھلے ہی تمہاری ماں کی عمر کی کیوں
نہ ہو.
گویہ چالیس سالہ خدیجہ سے ٢٥ سالہ محمّد کی
شادی ہو گئی . محمّد کو جورو ماتا مل گئیںاور خدیجہ کو برخوردار
محمّد
.
محمّد نے خدیجہ کی زندگی میں کسی جنس لطیف کو
آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھا بلکہ لونڈی ایمن کو بھی انہوں نے نکل بہار کیا ، انکے مرتے
ہی محمّد چھٹہ سانڈ ہو گے جہاں موقہ دیکھا منہ مارنا شروع کر دیا. سات سال کی عایشہ
ہو یا ڈیڑھ من کی
سودا
.
حق بجانب
جیم. مومن







No comments:
Post a Comment