دین
دین دیانت کا مرکز ہے . محمدی الله دیانت داری ہو ہی نہیں سکتا،
اسی طرح قرانی پیغمبر بھی جھوٹ ہے.
ایک مومن کبھی بھی مسلم نہیں ہو سکتا،
ٹھیک ویسے ہی جیسے ایک مسلم کبھی مومن نہیں ہو سکتا ،
کیونکہ وہ اسلام کو تسلیم کے ہوئے ہے.
لفظ مومن پر اسلام بالجبر قبضہ کئے ہوئے ہے.
بہت سے القابوں
کے ساتھ ساتھ خود ساختہ الله کے رسول کا ایک لقب اوممی بھی ہے، جسکے لفظی
معنی تو ہیں نا خواندہ ،انپڑھ اور
جاہل، جسے اسلامی اصطلاح میں علما لکھتے ہیں
"وہ شخص اجسکا باپ اسکے بچپن میں ہی مر جاۓ جسکی وجہ سے وہ تعلیم حاصل نہ کر پاۓ."
اسلامی
علما نے الفاظ کے معنوں میں اسلام کو مسلّط کیا ہے ، جیسے کہ
عوام پر اسلام کو کیا. اس طرح ذلّت پر بھی عزت کا لبادہ پہنا دیا اور لفظ آوممی
مقدّس ہو گیا. یہ اسلامی علما کا خاصّہ ہے کہ یہ الفاظ کے مانی و مطلب بدل دیتے
ہیں ، اسکی مِثآل آگے آتی رہیگی. کہ لفظوں کا "اسلامی کرن" کیسے کیا.
محمّد نرے اوممی
تھے ، مطلق جاہل. یہ قرآن ان پڑھ اور اجڈ کا ہی دیوان ہے ، جسے انکے گڑھے
ہوئے الله کا کلام کہا جاتا ہے. علما نے قرآن کے ہیولے گڑھے اور اسکے بڑے بڑے
مراتب مقرر کئے، اسکی بلند ترین میناریں قایم کیں ، اسے منطق اور سائنس کا جامہ
پہنایا گیا ، اسے راز و نیاز کا دفینہ قرار دیا گیا. اسے عظمتوں کا نشان کہنے لگے
تو کہیں پر جنّت کی کنجی لکھا گیا. عالموں کا ڈھنڈھورا ہے کہ بہر حال
قرآن نجات کی رہ ہے. نظام حیات تو ہر عدنا
پدنا مسلمان اسکو کہنے میں پھولے نہیں سماتا، گوکہ دن
و رات مسلمان انھیں قرآنی آیتوں کی گمراہیوں میں مبتلا , پسپایوں میں
سماتا چلا جا رہا ہے. عام مسلمان از خود کبھی قرآن کو سمجھنے اور بوجھنے کی کوشش
نہیں کرتا ، اسے ہمیشہ یہی عییار عالمان دین ہی سمجھتے ہیں
اسلام کیا ہے؟ اسکی برکت کیا ہے؟؟چھوٹے
سے لیکر بڑے
تک سارے مسلمان دانشتہ اورغیر دانشتہ طور پر
اسکے جھوٹ اور کھوکھلے فائدے اور برکتوں سے جڑے
ہوئے ہیں. ان عالموں کا سب سے بڑا ذریہ معاش
اسلام ہے، جوکہ محنت کش عوام پر منحصر کرتا
ہے یعنی باقی قوموں سے بچنے کے بعد مسلمان خود
مسلمان کا استحصال کرتا ہے.
یہ
کائنات آج سے اربوں خرابوں سال پہلے وجود میں آئ تھی، اس بیچ صرف چودہ
سو سال پہلے ہی الله نے منہ میں زبان پایا اور قرانی خرافات بکا، وہ بھی کل تیئس
(٢٣ ) سال اور چار مہینے؟ (مفروضہ رسول کی عمر پیمبری) اسکے بعد الله ایسے غیب ہوا
جیسے گدھے کے سر سے سینگ . اس دوران اسنے یہودیوں کے فرشتے gibreel کو پکڑا اور قرانی
آیتوں کا سسلہ اسکے کانوں میں بھرنا شروع کیا، پھر اسنے الله کی باتیں محمّد کے
کانوں میں پھسکا اور اسکے بعد محمّد نے با آواز بلند اعلان کیا.
اس طرح بنتی رہی
قرآن ؟
جیم. مومن







No comments:
Post a Comment