Thursday, 17 January 2013

Haq B Janib 58


دین 

دین دیانت کا مرکز ہے . محمدی الله دیانت داری ہو ہی نہیں سکتا،
اسی طرح قرانی پیغمبر بھی جھوٹ ہے. 
ایک مومن کبھی بھی مسلم نہیں ہو سکتا،
 ٹھیک ویسے ہی جیسے ایک مسلم کبھی مومن نہیں ہو سکتا ،
 کیونکہ وہ اسلام کو تسلیم کے ہوئے ہے. 
لفظ مومن پر اسلام بالجبر قبضہ کئے ہوئے ہے. 
*******


 وجدانی کیفیت 
قران محمّد کی وجدانی کیفیت میں بکی ہوئی اونٹ پٹانگ باتوں کا مجموعۂ کلام ہے جس کا کچھ جنگی فتوحات کے بعد محممدی غلبہ قایم ہو جانے کے بعد، مذاق اڑانا جرم قرار دے دیا گیا. جنگوں سے حاصل مالِ غنیمت نے اسے مقدّس بنا دیا. فتح مکّہ کے بعد تو یہ اُمّی کی پوتھی شریعت بن کر ممالک کے قانون قائدے بننے لگی . اسکے مجرمین علمہ نے تلوار کے ساۓ میں اپنے ظرف و ضمیر کو گروی رکھنا شروع کر دیا، تواس میدان میں علمہ کی دوڑ میں دروغ گوئی کا مقابلہ شروع ہوگیا. شکشت خوردہ حکمرانوں اور مجبورومظلوم عوام نے اسے تسلیم کرنا شروع کر دیا-
پھوہڑ زبان میں متضاد باتیں، وجد کی بک بک ، بے وقعت قصّے، گڑھے ہوئے واقعے، بغض اور مکر کی گفتگو، جھوٹ کے سیکڑوں اقسام کو ڈھکنے کے لئے محمّد نے اسے تلاوت کا کلام بنا دیا نہ کہ سمجھنے اور سمجھانے کا - 
جھوٹ کی صداقت یہ ہے کہ وہ اپنا پختہ ثُبووت اپنے پیچھے چھو ڑ جاتا ہے. قران کو تحریری شکل میں محفوظ کرنے کا محمّد کا کوئی ارادہ نہیں تھا. یہ تو یاد داشت کے طور پر سینہ در سینہ قبیلائی منتر چلتے رہنے کا ایک سلسلہ تھا. قران کی اوقات یہی بتلاتی ہے ، مگر محمّد کے مرنے کے بعد چوتھے خلیفہ عثمان غنی کو تب جھٹکا لگا جب اس کے حافظ جنگوں میں موت کے گھاٹ اتارے جانے لگے. انکو لگا کہ ایک دن ایسا بھی آ سکتا ہے کہ اسکو پڑھنے والا ہی کوئی نہ بچے.اور سینہ در سینہ منتقلی ہی نہ ہو سکے. تب انہوں نے قران کے بکھرے ہوئے نسخوں کو چمڑوں، پیڑ کی چھالوں ، پتھر کی سلیٹوں اورکاغذوں پر جہاں جیسا ملا ، اکٹٹھ کیا. اسمیں سے آدھے سے زیادہ قرانی نسخے رددی کی ٹوکری میں ڈالے جو موجودہ قران سے بھی زیادہ نامعقول تھے. باقی بچا قران آپ کے آگے جھوٹ کا پیکر بنا کھڑا ہے، جس کا حشربھی مستقبل قریب میں آپکے سامنے ہوگا- 

********************************************

پیش ہیں جہادی آیتیں جنکی پردہ پوشی آج مذہبی اور سیاسی گندے کرتے پھرتے ہیب اور جہاد کے معنی جد و جہد کے بتلاتے ہیں - اسلام جنگ و قتل و غارت گری کے سبق دیتا ہے ، وہ بھی لوٹ مار کرنے کے لئے - قبیلائی لٹیرے اس لوٹ پاٹ سے حاصل مال کو "مال غنیمت" کہا کرتے تھے ٠ 


7
___________________________
جیم. مومن 

No comments:

Post a Comment