Thursday, 12 April 2012

Haq B Janib 20


دین 

دین دیانت کا مرکز ہے . محمدی الله دیانت داری ہو ہی نہیں سکتا،
اسی طرح قرانی پیغمبر بھی جھوٹ ہے. 
ایک مومن کبھی بھی مسلم نہیں ہو سکتا،
 ٹھیک ویسے ہی جیسے ایک مسلم کبھی مومن نہیں ہو سکتا ،
 کیونکہ وہ اسلام کو تسلیم کے ہوئے ہے. 
لفظ مومن پر اسلام بالجبر قبضہ کئے ہوئے ہے. 

مولانا اشرف علی تھانوی نے مسلم دنیا پر بہت بڑا احسان کیا ہے جو انجانے میں قران کا اردو ترجمہ خالص کر گے. وہیں 
دوسری طرف مسلمانوں کیے ساتھ بڑا ظلم کیا ہے  جو نکو گمراہ کر گے. جی ہاں ! اپنے کام میں جہاں ایمانداری کیے ساتھ خاکس ترجمہ کیا ہے، وہیں بے ایمانی برتی ہے کہ مفروضہ محممدی الله کی استادی کی ہے.انکا پورے قران میں  بریکٹ   لگا کر یہ سمجھانے کا طریقہ کہ " الله کیے کہنے کا مطلب . . . . یہ ہے" اسکے بعد تفسیریں لکہ کر مسلم عوام کی آنکھوں میں  دھول جھونکا ہے.
مذبذب تحریر کو با معنی کر دیا ہے. الله کی کیا مجبوری تھی کہ وہ ایسی   غیر واضح کلام بکتا؟ وہ ہستی الله ہو ہی نہیں سکتی جو صاف صاف کلام نہ کر سکے. خود قران اس بات کی چغلی کرتا ہے کہ یہ کسی چالاک امی کا  بیان ہے. وہ امی محمّد کیے علاوہ کون ہو سکتا ہے؟ اپنی بکواس کو کلام الاہی قرار دیا جو ہر جگہ مذاق ثابت ہوتا ہے.
مسلمانوں کی عقل پر پالا پڑ گیا ہیں کہ الله عربی زبان میں بولتا بھی ہے.اسے بولنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں کہ الفاظ سے بندوں کو سمجھے اور سمجھے ، اسے کمال حاصل ہے کہ جو چاہے کردے. ڈرانے دھمکانے کا کم تو خاصکر حضرت انسان کا ہے.
 مسلمانوں ! جاگو جھوٹی قوم دنیا میں سرخرو ہو ہی نہیں سکتی.  
جیم. مومن 

No comments:

Post a Comment